23 فروری 2011 - 20:30

سلامتی کونسل نے لیبیا کے قاتل حکومت سے معذرتخواہانہ لب و لہجے میں درخواست کی گئی ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں اور انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والی تنظیموں کو لیبیا کا دورہ کرنے کی اجازت دے"۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق چھوٹے چھوٹے بہانوں اور وہم و گمان کی بنیاد پر اسلامی ممالک پر عالمی فوجی حملوں کی حمایت کرنے والی سلامتی کونسل نے آخر کار لیبیا کی صورت حال پر غور کے لئے اجلاس منعقد کیا جس سے کوئی متوقعہ نتیجہ نہیں ملا بلکہ سلامتی کونسل نے نہایت عجیب موقف اپناتے ہوئے "لیبیا میں موجودہ صورت حال کے خاتمے" کا مطالبہ کیا جبکہ قذافی نے کل اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں نہایت وحشیانہ انداز سے لوگوں کو دھمکیاں دیں اور کہا کہ وہ خود بھی یونیفارم پہن کر عوام کے خلاف جنگ لڑنے والوں میں شامل ہورہے ہیں۔ سلامتی کونسل نے لیبیائی آمر کے اقدامات کی طرف اشارہ کئے بغیر "لیبیا میں تشدد آمیز واقعات" کی مذمت کی ہے۔ سلامتی کونسل ـ جو امریکہ اور اسرائیل کی مفادات کے تقاضے کی صورت میں دنیا جہان کے ہر مسئلے میں صاحب رائے ہوکر چارہ کار ڈھونڈ نے کا حق صرف اپنے لئے محفوظ رکھنے پر اصرار کرکے شدید ترین اقدامات کی ہدایات دیا کرتی ہے ـ نے اپنے بیان میں قذافی کو براہ راست مورد تنقید بنائے بغیر کہا گیا ہے کہ "عوام کے خلاف تشدد آمیز اقدامات افسوس کا باعث ہیں اور اس صورت حال سے نکلنے کے لئے چارہ کار ڈھونڈنے کی ضرورت ہے"۔سلامتی کونسل نے گویا قذافی کی آمرانہ حکمرانی کے جاری رہنے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ "تشدد کا فوری خاتمہ ہو، عوام کے مطالبات کی جانب قدم اٹھائے جائیں اور قومی مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے!"۔ سلامتی کونسل نے لیبیائی ہٹلر کی آمریت کو تسلیم اور لیبیائی حکومت کے ہاتھوں شہریوں کے قتل عام اور جنگی جرائم کے ارتکاب کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا ہے کہ "لیبیائی حکومت اپنے شہریوں کے تحفظ کے لئے اقدامات کرے، صبر و تحمل سے کام لے، انسانی حقوق کو محترم سمجھے، اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق عمل کرے"۔ اس بیان میں پھر بھی لیبیا کے قاتل حکومت سے معذرتخواہانہ لب و لہجے میں درخواست کی گئی ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں اور انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والی تنظیموں کو لیبیا کا دورہ کرنے کی اجازت دے"۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110